1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
ماحولاسپین

اسپین میں پگھلا دینے والی گرمی: آگ کے شعلے، پیاس، بے ہوشی

16 جولائی 2022

جنوبی یورپی ملک اسپین کو اس وقت پگھلا دینے والی گرمی کی ایسی لہر کا سامنا ہے، جیسی پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آئی تھی۔ ہر طرف آگ اگلتا سورج، جگہ جگہ جنگلات سے اٹھتے شعلے اور عام شہری جو پیاس سے بے ہوش ہو جاتے ہیں۔

سیرا دے لا کُولیبرا نامی محفوظ قدرتی علاقے میں لگی جنگلاتی آگتصویر: Emilio Fraile/Europa Press/abaca/picture alliance

جزیرہ نما آئبیریا کے بڑے ملک اسپین کو زیادہ تر ماحولیاتی تبدیلیوں، خشک سالی اور انتہائی کم بارشوں کے نتیجے میں موجودہ موسم گرما کے عروج پر ان دنوں اتنی زیادہ گرمی کا سامنا ہے کہ وہاں درجہ حرارت 46 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا، جو ایک نیا ریکارڈ ہے۔

جرمنی سمیت کئی یورپی ممالک شدید گرمی کی لپیٹ میں، ہیٹ ایکشن پلان کی تجویز

اسپین کے مختلف حصوں میں اس وقت گرمی کی لہر اتنی شدید ہے کہ وہاں بے شمار مقامات پر جنگلوں میں آگ لگ چکی ہے اور خشک سالی بھی پہلے ہی سے اتنی ہے کہ اس ملک کو اس کا ماضی میں کبھی تجربہ ہی نہیں ہوا تھا۔ ایسے میں جنگلوں میں لگی آگ بجھانے میں مصروف کارکنوں بھی اپنی توانائی کی آخری حدوں پر پہنچ چکے ہیں۔

محض چند مثالیں

اسپین اس وقت اپنے ہاں شدید گرمی کی لہر سے نمٹنے کے لیے کیا کچھ کر رہا ہے، اس کا اندازہ چند ایسی مثالوں سے لگایا جا سکتا ہے، جن کا یہاں بیسیوں مثالوں میں سے صرف چند کے طور پر ہی ذکر کیا جا سکتا ہے۔

میڈرڈ سے جنوب مغرب کی طرف موٹر گاڑی کے ذریعے چند گھنٹے کی مسافت پر واقع صوبے ایکسٹرے مادورا میں کاساس دے میراویتے نامی علاقے میں صبح سویرے درجنوں مقامی باشندوں کو ریڈ کراس کے کارکنوں کی مدد سے اس لیے ان کے گھروں سے دور محفوظ مقامات پر منتقل کرنا پڑ گیا کہ وہاں لگنے والی جنگلاتی آگ مقامی آبادی کے گھروں کے قریب تک پہنچ گئی تھی۔

تصویر: Marcelo del Pozo/REUTERS

ایسے 66 مقامی باشندے جب وہاں سے رخصت ہو رہے تھے تو وہ دیکھ سکتے تھے کہ جنگلاتی آگ کے شعلے ان کے گاؤں اور گھروں کے بہت قریب پہنچ چکے تھے۔ وہاں آگ بجھانے کی کوشش کرنے والے کارکن گزشتہ کئی دنوں سے مسلسل مصروف ہیں۔ اس علاقے میں جنگلاتی آگ کم از کم بھی چار ہزار ہیکٹر رقبے کو راکھ بنا چکی ہے۔

پورا ہفتہ ہی بہت صبر آزما

اسی طرح لادریار کے علاقے میں بھی سینکڑوں باشندوں کو اپنے گھروں سے رخصت ہونا پڑا۔ ہسپانوی ریڈ کراس میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر موجودہ موسمی حالات کے متاثرین کی مدد کرنے والوں میں وکٹور ڈومینگیز بھی شامل ہیں۔ انہوں نے لادریار سے مقامی آبادی کے انخلا میں بھی حصہ لیا۔

وکٹور ڈومینگیز نے ڈی دبلیو کے بتایا، ''ہمارے لیے یہ پورا ہفتہ ہی بہت پیچیدہ، صبر آزما اور تھکا دینے والا ہے۔ درجہ حرارت انتہائی زیادہ ہوتا اور ہوا کا رخ مسلسل بدلتا رہتا ہے۔ فائر بریگیڈ کارکن اپنی ہر وہ کوشش کر رہے ہیں جو ان کے بس میں ہے۔‘‘

یورپ میں پانی کا بحران، خشک سالی سے دریا بھی خشک ہونے لگے

ہسپانوی صوبے ایکسٹرے مادورا میں کئی مقامات پر امدادی کاموں میں حصہ لینے والے وکٹور ڈومینگیز نے بتایا، ''کبھی کبھی ہم خود کو بہت بے بس محسوس کرتے ہیں۔ اس لیے کہ ہم موسم اور اس کی شدت پر تو اثر انداز ہو نہیں سکتے۔ موسم بدلے تو ہی جنگلات میں لگی آگ قابو میں لائی جا سکتی ہے۔ ورنہ ہوا کا رخ بدلتے رہتے کے باعث آپ کے لیے آگ پر قابو پانا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔‘‘

تصویر: Cruz Roja

شدید گرمی کی دوسری طویل لہر

اسپین کو اس وقت شدید گرمی کی جس طویل لہر کا سامنا ہے، وہ اپنی نوعیت کی دوسری لہر ہے اور 46 ڈگری سینٹی گریڈ تک درجہ حرارت کے ساتھ کئی دن بلکہ ایک ہفتے تک بھی جاری رہ سکتی ہے۔ شدید گرمی کی ایسی پہلی طویل لہر گزشتہ ماہ جون میں آئی تھی۔ اس کی وجہ سے بھی بہت سے مقامات ہر جنگلوں میں آگ لگ گئی تھی۔

شدید گرمی کی لہر انسانوں کے ساتھ ساتھ جانوروں کے لیے بھی خطرہ

جنوبی یورپی ملک اسپین یورپی یونین کا رکن بھی ہے اور اقتصادی طور پر ترقی یافتہ بھی۔ لیکن وہاں پر گزشتہ چند برسوں سے ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات کی وجہ سے موسم، خاص طور پر موسم گرما اتنا شدید رہنے لگا ہے کہ اس ملک پر موسمیاتی طور پر تقریباﹰ شمالی افریقہ کی کوئی ریاست ہونے کا شبہ ہوتا ہے۔

یہ موسم گرما کی شدت میں اسی مسلسل اضافےکا نتیجہ ہے کہ اسپین میں بہت زیادہ گرمی اب ہر سال کم از کم بھی 1300 شہریوں کی جان لے لیتی ہے۔

مغربی یورپ میں بھیڑیوں کی آخری محفوظ پناہ گاہ بھی متاثر

اسپین میں پگھلا دینے والی گرمی کی لہر نے سیرا دے لا کُولیبرا نامی محفوظ قدرتی علاقے کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے۔ وہاں 30 ہزار ہیکٹر رقبے پر پھیلے ہوئے جنگلات آتش زدگی کی وجہ سےتباہ ہو چکے ہیں۔

جرمنی سمیت مغربی یورپ میں گرمی کی غیر معمولی لہر، ریکارڈ درجہ حرارت

اس محفوط قدرتی علاقے کا شدید گرمی کی وجہ سے اتنا نقصان اس لیے بھی ناقابل تلافی اور انتہائی افسوس ناک ہے کہ مجموعی طور پر یہ علاقہ اپنے زرعی شعبے اور پرکشش سیاحتی مقامات کے لیے بھی بہت مشہور ہے مگر اس خطے کی منفرد اہمیت کا ایک سبب اور بھی ہے۔

سیرا دے لا کُولیبرا میں ہی پورے مغربی یورپ میں بھیڑیوں کی آخری محفوظ قدرتی پناہ گاہ بھی ہے۔ لیکن اب وہاں ہزاروں ہیکٹر قدرتی رقبہ راکھ ہو چکا ہے۔

م م / ش ح (نیکول ریس، میڈرڈ)

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں