1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
سیاستبرطانیہ

برطانیہ میں پناہ کے متلاشی افراد کے لیے پالیسی میں سختی

24 مارچ 2021

برطانوی حکومت غیر قانونی طور پر ملک میں داخل ہونے والوں کی حوصلہ شکنی کے لیے اپنی پالیسی میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کرنے جا رہی ہے۔

England London nach Terrorattacke auf der London Bridge
تصویر: picture-alliance/AP Photo/S. Parsons

حکومت کے مطابق برطانیہ میں پناہ گزینوں سے متعلق موجودہ نظام میں خامیاں ہیں، جن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جرائم پیشہ گروہ انسانوں کی اسمگلنگ میں ملوث رہے ہیں۔

وزیر داخلہ پریتی پٹیل کے مطابق 'امیگریشن سے متعلق نیا پلان‘ منصفانہ ہوگا جس کے تحت واقعی پناہ کے متلاشی افراد کو برطانیہ میں سہارا دیا جائے گا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ نئی پالیسی ایسے افراد کے لیے سخت ہوگی، جو غیر قانونی طور پر انسانوں کے اسمگلروں کے ذریعے برطانیہ پہنچتے ہیں۔

نئے قوانین کے تحت برطانوی حکومت کے لیے ایسے افراد کو ملک بدر کرنا آسان ہو جائے گا۔ برطانوی میڈیا سے بات کرتے ہوئے پریتی پٹیل نے کہا کہ حکومت امیگریشن کے نظام میں بڑے پیمانے پر اصلاحات متعارف کرانے والی ہے۔

تصویر: picture-alliance/empics/Yui Mok

ان کے مطابق مجوزہ سفارشات کی منظوری کے بعد ملک میں غیر قانونی طور پر اور چھپ کر داخل ہونے والوں کو وہ حقوق حاصل نہیں ہوں گے جو واقعی اپنی جانیں بچا کر قانونی طور پر برطانیہ پہنچنے والوں کو دیے جاتے ہیں۔

برطانیہ میں حکمران کنزرویٹو پارٹی ملک میں پناہ گزینوں اور تارکین وطن سے متعلق سخت موقف رکھتی ہے۔ امیگریشن قوانین میں تبدیلیوں کے ذریعے باہر سے آنے والوں کی تعداد پر قابو پانا وزیر اعظم بورس جانسن اور ان کے حامیوں کا انتخابی نعرہ رہا ہے۔

تصویر: Getty Images/C. Furlong

تاہم برطانیہ میں انسانی حقوق کے لیے سرگرم تنظیموں کا کہنا ہے کہ مجوزہ تبدیلیاں امیگریشن  نظام کو غیر منصفانہ بنائیں گی اور اس سے انسانوں کی اسمگلنگ کی حوصلہ شکنی بھی نہیں ہو گی۔

حزب اختلاف کی جماعت لیبر پارٹی نے بھی حکومتی تجاوز کو 'غیر حقیقت پسندانہ‘ اور 'غیر منصفانہ‘ قرار دے کر رد کیا ہے۔

ماہرین کے مطابق جنوبی ایشیا اور عرب دنیا کے ممالک سے کئی لوگ بہتر زندگی کی تلاش میں خفیہ طور پر یا فراڈ کے ذریعے برطانیہ پہنچتے ہیں۔ ایسے افراد معاشی تارکین وطن تصور کیے جاتے ہیں، جن کی اسمگلنگ میں ملوث جرائم پیشہ گروہ کروڑوں ڈالر کماتے ہیں۔

تصویر: picture-alliance/Photoshot

برطانیہ میں پچھلے سال مارچ تک ایک سال کے دوران پناہ کے لیے 35099 درخواستیں جمع کرائی گئیں، جن میں سے زیادہ تر ایران، البانیہ اور عراق کے شہریوں نے دی تھیں۔

ان پینتیس ہزار سے زائد درخواست دہندگان میں سے 8000 سے زائد افراد انسانی اسمگلروں کی مدد سے چھوٹی کشتیوں کے ذریعے سمندر کے راستے برطانیہ پہنچے تھے۔ مبصرین کے مطابق عالمی قوانین کے تحت برطانیہ پر لازم ہے کہ وہ جان بچا کر ترک وطن کر کے آنے والے افراد کو پناہ دینے سے انکار نا کرے۔

تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ برطانیہ میں پناہ کے متلاشی تارکین وطن کا دباؤ بڑھتا گیا ہے، جس کا ایک نتیجہ یہ ہے کہ وہاں پناہ کی درخواستیں دینے والوں کو قانونی چارہ جوئی میں سالہا سال لگ جاتے ہیں۔

تجزیہ نگاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ درخواستوں کی اصلیت کا تعین اس بنا پر نہیں کیا جا سکتا کہ پناہ کا متلاشی کوئی شخص ہوائی جہاز کے ذریعے برطانیہ پہنچا یا پھر کسی کشتی کے ذریعے۔

ش ج / م م (اے ایف پی)

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں