1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

پاکستان ریلیف ترکی ریسکیو آپریشن میں پیش پیش

19 فروری 2023

ترکی میں حالیہ زلزلے کے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں پاکستان کی غیر سرکاری تنظیم پاکستان ریلیف کی ایک ٹیم بھی سرگرم ہے۔

Türkei Kahrahanmarash | Erdbeben
تصویر: Pakistan Relief IDEA

ترکی اورشام میں حالیہ قیامت خیز زلزلے کے بعد مختلف ممالک نے امدادی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی پیشکش کی۔ پاکستان سے ایک غیر سرکاری تنظیم پاکستان ریلیف کی ایک ٹیم بھی ترکی پہنچ  کر زلزلے کے متاثرہ ترین علاقوں میں اپنی خدمات انجام دے رہی ہے۔

پاکستان کی غیر سرکاری تنظیم ''پاکستان ریلیف انٹرنیشنل ڈیزاسٹر اینڈ ایمرجنسی اکیڈمی‘‘ (پی آر آئی ڈی ای اے) کی ایک ٹیم ترکی پہنچی جہاں وہ شدید متاثرہ علاقوں میں سے ایک کہرامان ماراش میں ایک ہفتہ ریسکیو آپریشن جاری رکھنے کے بعد اتوار کو ایک اور تباہ شدہ شہر ادانا کے لیے روانہ ہو گئی ہے۔

پاکستان سے ترکی کا امدادی سفر

پی آر آئی ڈی ای اے  کے صدر مجتبیٰ حیدر عمران نے ڈوئچے ویلے کو بذریعہ ٹیلی فون متاثرہ علاقے کی صورتحال کی تفصیلات سے آگاہ کیا جن سے زلزلے سے تباہ حال علاقے میں جاری ریسکیو کے کام اور متاثرین کی تازہ ترین صورتحال کا اندازہ ہوتا ہے۔

مجتبی حیدر عمران نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ جس روز ترکی اور اس کے ہمسایہ ملکشامکے کچھ علاقوں کو تباہ کُن زلزلے نے تہہ و بالا کر دیا اُسی روز ان کی ٹیم نے اسلام آباد میں قائم ترک سفارتخانے کو مراسلہ بھیجا اور سرچ اینڈ ریکسیو ٹیم کو ترکی بھیجنے کی پیشکش کی۔ ان کی ٹیم کے پاس  K9  'سنفر ڈاگز‘ موجود ہیں جو ملبے کے نیچے سے انسانوں کو نکالنے کے آپریشن میں غیر معمولی کردار ادا کرتے ہیں۔ ان ڈاگز کی سفری ضروریات کے مطابق ویکسینیشن بھی کروا دی گئی تھی اور انہیں سفر کے لیے تیار کر لیا گیا تھا۔ تاہم اجازت کے حصول میں تاخیر کے سبب پاکستان ریلیف کی ٹیم بغیر 'سنفر ڈاگز‘ کے ہی 11 فروری کو استنبول پہنچی اور 12 فروری کو یہ ٹیم غازی انتپ پہنچی جس کا حالیہ زلزلے سے بے حد متاثر ہونے والا قریبی علاقہ ہتائی ہے۔ وہاں انہیں کہرامان مراش میں آنے والی تباہیوں اور بہت زیادہ تعداد میں عمارتوں کے انہدام کا پتا چلا۔ پاکستان ریلیف کی ٹیم کے اراکین 12 فروری کی نیم شب  کہرامان مراش پہنچے۔ وہاں سے مرکزی شہر تک انہوں نے پیدل چل کر رستہ طے کیا اور فوراً ہی امدادی کاموں میں شامل ہو گئے۔

کہرامان میں ملبے سے مزید انسانوں کو زندہ نکالنے کی کوششتصویر: Pakistan Relief IDEA

رضاکاروں کی کئی ٹیمیں وہاں سرگرم تھیں۔ سردی کی شدت اور اندھیرے میں کام کرنے والے کارکنوں کی ایک ٹیم جب تھک جاتی تو دوسری ٹیم ملبہ صاف کرنے اور مزید انسانوں کو زندہ نکالنے کے انتہائی مشکل کام میں مصروف ہو جاتی۔ پاکستان ریلیف کے صدر نے بتایا کہ ان کی ملاقات ترکی کے سرچ اینڈ ریسکیو کے ایک ادارے Gendarmerie Search and Rescue (JAK) کے اراکین سے ہوئی جنہوں نے بتایا کہ صرف اس شہر سے مجموعی طور 18 ہزار افراد کو ملبے سے زندہ نکالا گیا ہے۔ صرف (JAK) کی ٹیم نے 145 افراد کو ملبے سے زندہ نکالا ہے۔

مجتبیٰ کے بقول ریسکیو کا کام 24 گھنٹے جاری رہتا ہے۔ ان کا کہنا تھا، ''میں سمجھتا ہوں ابھی بھی کئی لوگ ملبے کے نیچے زندہ ہوں گے لیکن ملبہ ہٹانے کا کام بہت مشکل اور وقت طلب کام ۔ انتہائی صبر آزما۔‘‘

پاکستان ریلیف کے صدر نے بتایا کہ ترکی کے سرکاری ادارے اور فلاحی تنظیمیں انتہائی ہم آہنگی اور تعاون سے مل کر کام کرتی ہیں۔ شب و روز ان کا امدادی کام جاری ہے جس میں امدادی تنظیمیں سرچ اینڈ ریسکیو ٹیموں کے کارکنوں کو مسلسل کھانا فراہم کر رہی ہیں کیونکہ ان کے اراکین بغیر کسی وقفے کے مسلسل ملبے سے انسانوں کی تلاش کا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ متاثرین کو انتہائی باوقار طریقے سے غذائی امدد فراہم کرنے کا کام بھی یہاں کی امدادی تنظیمیں انجام دے رہی ہیں۔ بہت سے لوگ دوسرے شہروں سے یہاں پہنچے ہیں۔

زلزلہ متاثرین کے لیے جرمن حکومت کی فاسٹ ٹریک ویزا پیشکش

ملبہ صاف کرنے اور تعمیر نو کا کام شروع کرنے میں بہت وقت لگے گاتصویر: Pakistan Relief IDEA

کن سازوسامان کی اشد ضرورت ہے؟

پاکستان ریلیف کی ریسکیو ٹیم کے اراکین کی ملاقات ترکی کے ڈیزاسٹر منیجمنٹ کے قومی ادارے AFAD کے نمائندوں سے  ہوئی۔ جب پاکستان ریلیف نے ان سے پوچھا کہ انہیں فی الوقت سب سے زیادہ ضرورت کس شے کی ہے تو انہوں نے کہا، ''ڈگگنگ ٹولز‘‘ یعنی کھدائی کرنے والے سازو سامان، بیلچے، گینتی، سیفٹی ہلمٹس اور مضبوط ہینڈ گلوز کی۔ مجتبیٰ حیدر کا کہنا تھا کہ ملبہ اتنا زیادہ ہے کہ اُسے صاف کرنے کے لیے ان اشیا کی شدید ضرورت ہے۔ اگلا مرحلہ تعمیر نو کا ہوگا جس کے لیے بھی ان سازو سامان کی شدید ضرورت ہو گی۔ پاکستان ریلیف کے صدر کا کہنا تھا کہ انہوں نے پاکستان میں اپنے تمام دوستوں اور مُخیر حضرات تک ان چیزوں کی ضرورت کی اطلاعات پہنچا دی ہیں۔ مجتبیٰ کا کہنا تھا کہ بہت سے پاکستانی باشندے دل کھول کر چندہ جمع کر رہے اور عطیہ کر رہے ہیں۔

پاکستان ریلیف کے صدر نے بتایا کہ ان اور دیگر امدادی اشیاء کو پاکستان سے ترکی پہنچانے کے سلسلے میں ترکش ایئر لائنز نے تعاون کی پیش کش کی ہے۔ پاکستان ریلیف پاکستان میں چندہ اکٹھا کر کے مذکورہ سازوسامان خرید کر ترکش ایئرویز کے ذریعے ترکی کے مختلف متاثرہ علاقوں تک پہنچانے کا کام انجام دے گا۔

شامی زلزلہ متاثرین: سیاست پہلے، امداد بعد میں؟

چند قابل ذکر سرگرمیاں

مجتبیٰ حیدر عمران نے بتایا کہ شدید سردی اور ملبے سے اُٹھنے والی دھول گرد اتنی زیادہ ہے کہ تمام امدادی کارکنوں کو سانس کی تکلیف اور کھانسی وغیرہ کا سامنا ہے۔ ملبے سے لکڑیاں نکال کر آگ جلائی جاتی ہے تاکہ کسی حد تک سردی کا مقابلہ کیا جا سکے۔ مجتبیٰ نے بتایا کہ ان کی ٹیم کے رضاکاروں کے ساتھ ساتھ بہت سے ترک نوجوان بھی ریسکیو کا کام انجام دے رہے ہیں۔ دو ترک نوجوانوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ وہ دونوں جرمن شہر فرینکفرٹ سے گاڑی کی 60 گھنٹوں کی مسافت طے کرتے ہوئے کہرمان مراش پہنچے۔ وہ اپنی گاڑی میں جس حد تک امدادی اشیاء لاد سکتے تھے، لاد کر لے آئے اور یہاں پہنچتے ہی امدادی کاموں میں شریک ہو گئے۔

ملبے کے نیچے سے زندہ نکالے گئے جانوروں کو بھی دیکھ بھال کی ضرورت ہےتصویر: Pakistan Relief IDEA

مجتبیٰ حیدر نے بتایا کہ ملبے تلے دبے انسانوں کو زندہ نکالنے کا کام گرچہ جاری ہے تاہم اب رفتہ رفتہ مزید انسانوں کے زندہ نکلنے کی امید ختم ہوتی جا رہی ہے۔

پالتو جانوروں کو بھی بچانے کی کوشش

پاکستان ریلیف کے صدر نے بتایا کہ مختلف مقامات پر ملبے کو صاف کرنے کے لیے جاری آپریشن میں بلڈوزر اور مختلف مشینری کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہاں پر ملبہ ہٹاتے ہوئے کچھ پالتو جانور بھی مل رہے ہیں۔ کتے، بلیاں جن میں سے کچھ شدید زخمی ہوتے ہیں اور کچھ کی ہڈیاں ٹوٹی ہوئی ہیں ان کو بھی ریسکیو کیا جا رہا ہے۔  یہ جانورکئی دنوں ملبے تلے دبے رہنے کے سبب شدید خوف اور صدمے کا شکار نظر آتے ہیں۔ مجتبیٰ نے کہا کہ انہیں ترکی کے زلزلہ سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو کا کام کرنے والوں کی یہ بات بہت ہی اچھی لگی کہ وہ جانوروں کا اتنا احترام اور ان سے محبت کرتے ہیں۔ انہیں گود میں اُٹھانا، انہیں پیار کرنا، کھانا کھلانا اور پانی پلانا۔ ہمارے کارکن بھی یہ کام کر رہے ہیں۔

سائنسی ترقی زلزلوں کا پیشگی پتہ چلانے میں ناکام کیوں؟

IDEA’ آئی ڈی ای اے‘ کس طرح کام کرتا ہے؟

پاکستان ریلیف دراصل ہیومینیٹیرین اسسٹنس کا شعبہ ہے اور IDEA یعنی انٹر نیشنل ڈیزاسٹر اینڈ ایمرجنسی اکیڈمی میں اسکول کالج اور یونیورسٹی کی سطح پر فرسٹ ایڈ  ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اور کمیونٹی بیسڈ ڈیزاسٹر رسک مینیجمنٹ ''سی بی ڈی آر ایم‘‘  کے مختلف مضامین اور ٹریننگ پروگراموں کے ذریعے 'کیپیسٹی بلڈنگ‘‘ کی جاتی ہے۔ پاکستان ریلیف کے صدر کا کہنا تھا، ''جب بھی دنیا میں کہیں بھی کوئی ہنگامی حالت یا ڈیزاسٹر ہو، ہماری اکیڈمی سے تربیت حاصل کرنے والے نوجوان خود کو بلا کسی معاوضہ رضا کارانہ طور پر خدمات کے لیے پیش کرتے ہیں۔ یہ رضاکار اپنی جیب سے خرچ کر کے اس کار خیر میں شریک ہوتے ہیں۔‘‘

مجتبیٰ عمران حیدر نے بتایا کہ ترکی میں سرگرم ان کی ٹیم اس وقت تین اراکین پر مشتمل ہے جبکہ ان کے چار مزید رضا کار جلد پاکستان سے تر کی پہنچنے والے ہیں۔

 

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں