1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

ترکی میں حزب اختلاف کا روس پر انتخابات میں مداخلت کا الزام

12 مئی 2023

کمال کلیچ دار اولو نے اپنے ایک ٹویٹ میں تفصیلات بیان کیے بغیر لکھا،’’ترک ریاست سے ہاتھ ہٹاؤ۔‘‘ روس نے سی ایچ پی کے رہنما کے بیان کی تردید کی ہے۔

Türkei Parlaments- und Präsidentschaftswahlen 2023 | Wahlkampf Kilicdaroglu in BURSA
تصویر: Murad Sezer/REUTERS

ترکی کی مرکزی اپوزیشن ریپبلکن پیپلز پارٹی (سی ایچ پی) نے روس پر ملک میں ہونے والے صدارتی و پارلیمانی  انتخابات میں مداخلت کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ سی ایچ پی کا کہنا ہے کہ اس کے پاس اپنے رہنما اور صدارتی امیدوار کمال کلیچ دار اولو کے ان دعووں کے حق میں ''ٹھوس ثبوت''  موجود ہیں، جن کے مطابق  اتوار کے انتخابات میں مداخلت کی آن لائن مہم کے پیچھے روس کا ہاتھ ہے۔

ترک صدر رجب طیب ایردوآن کی سیاسی زندگی پر ایک نظر

ترکی میں صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کے لیے ووٹنگ چودہ مئی کو ہو گیتصویر: Murad Sezer/REUTERS

سی ایچ پی کے ایک سینئیر عہدیدار نے جرمن خبر رساں ایجنسی ڈی پی اے کو بتایا، ''ہاں، ہمارے پاس اس حوالے سے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔''  اس ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ پارٹی نے اس معاملے کے بارے میں ابھی روس کے اعلیٰ ایلچی سے رابطہ کرنے کا ارادہ نہیں کیا۔

موجودہ صدررجب طیب ایردوآن  کے خلاف چھ جماعتی اپوزیشن اتحاد کے مشترکہ امیدوار کلیچ دار اولو نے جمعرات کو دیر گئے روس پر اتوار کے پارلیمانی اور صدارتی ووٹنگ سے قبل ''، جعلی مواد پر مشتمل سازشی ویڈیوز''بنانے کا الزام لگایا۔

 اس ضمن میں کسی خاص واقعے کا حوالہ دیے بغیر اپنی ایک ٹویٹ میں کلیچ دار اولو نے لکھا، ''ترک ریاست سے ہاتھ ہٹاؤ۔'' اس سے چند گھنٹے قبل ایردوآن کے چار حریفوں میں سے ایک محرم انجے نے صدارتی دوڑ سے  دستبردار ہو نے کا اعلان کیا تھا۔

ترک تارکین وطن ایردوآن کی حمایت کیوں کرتے ہیں؟

03:04

This browser does not support the video element.

 حال ہی میں ان کی مبینہ اخلاق باختہ تصاویر گردش کرتی رہی تھی تاہم ان  تصاویر کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔ کلیچ دار اولو نے اتوار کو ایک ریلی میں ایک مبینہ ویڈیو دکھائی۔ ویڈیو میں کاٹی گئی تصاویر میں کالعدم کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے ) کے ایک رکن  کو سی ایچ پی کا انتخابی گانا گاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

حالیہ انتخابی جائزوں میں کلیچ دار اولوکو ایردوآن  پر معمولی برتری حاصل ہے۔ جمعہ کے روز کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کلیچ دار اولو کے الزامات کی تردید کی ہے۔ ان کا کہنا تھا،'' ہم نے بارہا کہا ہے اور اصرار کیا ہے کہ ہم دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات اور انتخابی عمل میں مداخلت نہیں کریں گے۔

 ش ر ⁄ ع ت (ڈی پی اے)

ترک الیکشن: کیا ایردوآن متحد اپوزیشن کو شکست دے سکیں گے؟

03:09

This browser does not support the video element.

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں