1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
معاشرہجرمنی

جرمن حکومت کا ملکی امیگریشن قوانین میں نرمی کا فیصلہ

7 جولائی 2022

جرمنی میں تارکین وطن سے متعلق قوانین میں نرمی اور امیگریشن کے نظام میں تبدیلی کا عندیہ سوشل ڈیموکریٹ رہنما اولاف شولس کی قیادت والی حکومت نے دیا ہے تاہم تارکین وطن کے حقوق کی تنظیموں نے اس اقدام کو ناکافی قرار دیا ہے۔

Deutschland Flüchtlinge in Heidenau
تصویر: Getty Images/M. Rietschel

امید کی کرن

جرمن چانسلر اولاف شولس کی حکومت نے بدھ چھ جولائی کو تارکین وطن کے لیے قوانین سے متعلق اصلاحات کے ایک پیکیج پر اتقاق کر لیا تھا۔ اس سے ان افراد کو جرمنی میں رہائشی حقوق ملنے کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں، جو پانچ سال سے زیادہ عرصے سے جرمنی میں 'ڈُلڈُنگ‘ نامی اس قانونی دستاویز کے ساتھ رہ رہے ہیں، جو انہیں عارضی طور پر جرمنی میں قیام کی اجازت دیتی ہے۔اس نظام میں اصلاحات سے جرمنی میں ایک لاکھ تیس ہزار تک تارکین وطن کو ملک میں مستقل قیام کی اجازت ملنے کی امید ہے۔

جرمنی کی سینٹر لیفٹ سوشل ڈیموکریٹ پارٹی ایس پی ڈی سے تعلق رکھنے والی وفاقی وزیر داخلہ نینسی فیزر نے ایک ٹویٹ میں لکھا، ''ہم ایک متنوع امیگریشن ملک ہیں اور اب ہم ایک بہتر انضمام والی ریاست بننا چاہتے ہیں۔‘‘ سوشل ڈیموکریٹ سیاستدان فیزر نے گزشتہ قدامت پسند حکومت کی تارکین وطن سے متعلق پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا، ''میں ترک وطن اور سماجی انضمام کے نظم و نسق کے سلسلے میں ہچکچاہٹ سے کام لینے کے بجائے ترک وطن اور تارکین وطن کے انضمام کو فعال بنانا چاہتی ہوں۔‘‘

افغان تارکین وطن کا جرمنی میں انضمام آسان بنایا جائے گا، جرمن حکومت

'ڈُلڈُنگ‘ نامی قانونی کاغذ جرمنی میں ان لوگوں کو دیا جاتا ہے، جن کی سیاسی پناہ کی درخواست مسترد ہو چکی ہو مگر جو مختلف وجوہات کی بنا پر اپنے ملک واپس نہ جا سکتے ہوں۔ ان وجوہات میں بہت کچھ شامل ہوتا ہے، مثلاﹰ جنگ، اپنے وطن واپسی پر گرفتاری کا خوف، ایسی کوئی خاتون جو حاملہ ہو، کوئی ایسا شخص جو کسی سنگین بیماری میں مبتلا ہو،  یا پھر ایسے تارکین وطن بھی جو جرمنی میں زیر تعلیم ہوں یا ملازمت کے لیے پیشہ وارانہ تربیت حاصل کر رہے ہوں۔ 'ڈُلڈُنگ‘ کی قانونی حیثیت رکھنے والے تارکین وطن کو تاہم قانونی طور پر کسی بھی وقت جرمنی چھوڑنے یا ان کی ملک بدری کے احکامات جاری کیے جا سکتے ہیں، جن پر عمل درآمد کے وہ پابند ہوتے ہیں۔

جرمن معاشرے کا ایک برا مسئلہ یہاں بچوں اور نوجوانوں کی کمی ہےتصویر: Uwe Zucchi/dpa/picture alliance

سیاسی پناہ ایک 'گرے زون‘

'ڈُلڈُنگ‘ کا عارضی رہائشی اجازت نامہ صرف مختصر وقت کے لیے قانونی طور پر جائز مانا جاتا ہے۔ اس کی مدت متعدد بار بڑھائی جا سکتی ہے اور اس اسٹیٹس کے حامل افراد کے لیے کام کرنے کی اجازت ملنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں۔ اب جرمن وزیر داخلہ کی تجویز کردہ نئی اسکیم کے تحت جن لوگوں کے پاس جنوری 2022ء تک پانچ سال سے 'ڈُلڈُنگ‘کا اسٹیٹس تھا، وہ ایک سال کے رہائشی اجازت نامے کے حقدار ہوں گے اور اس ایک سال کے عرصے کے اندر انہیں جرمن معاشرے میں اپنے انضمام کی تمام تر شرائط پوری کرنے پر رضامندی ظاہر کرنا ہوگی۔ با الفاظ دیگر، مستقل قیام کی اجازت کے لیے درکار، جرمن زبان پر کافی عبور، اپنی قابلیت میں ضروری اضافہ، اپنی آمدنی کو محفوظ بنانے کے لیے مناسب روزگار کی تلاش جیسے عملی ثبوت پیش کرنا ہوں گے۔ کسی بھی سنگین جرم کے مرتکب فرد کو، یا جھوٹی شناخت کے تحت سیاسی پناہ کی درخواست دینے والے کو، یا متعدد درخواستیں جمع کرانے والے کو امیگریشن سسٹم سے خارج کر دیا جائے گا۔ تاہم اس قانون میں کچھ استثنا بھی موجود ہے۔ مثال کے طور پر معمولی جرائم کے مرتکب افراد یا مجرمانہ نوعیت کے واقعات میں ملوث ایسے نوجوان جنہیں جرمانوں وغیرہ کی سزا سنائی جا چکی ہو، مگر جن کے جرم سنگین نوعیت کا نہ رہے ہوں، انہیں مستقل قیام کے اجازت نامے کے لیے درخواست دینے کے حق سے محروم نہیں کیا جائے گا۔

 جرمنی کو سالانہ چار لاکھ تارکین وطن کی ضرورت ہے

پناہ گزینوں کے حقوق کی تنظیم 'پرو ازیول‘ کے یورپی امور کے ڈائریکٹر کارل کوپ کا کہنا ہے کہ وہ اس قانونی شکنجے میں پھنسے بہت سے لوگوں سے ملے ہیں۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''ذرا تصور کریں کہ آپ کے پاس 'ڈُلڈُنگ‘ کا درجہ ہے، آپ کا خاندان ہے، یہاں آپ کے بچے اسکول میں ہیں، جو روانی سے جرمن بولتے ہیں، جو یہاں پلے بڑھے ہیں، تو ایک نا ایک وقت ایسا آتا ہے جب آپ صرف ایک ایسا اسٹیٹس چاہتے ہیں جو یہ واضح کرتا ہو کہ آپ کا تعلق اس ملک سے ہے۔ آپ صرف یہ چاہتے ہیں کہ غیر یقینی صورتحال ختم ہو جائے۔‘‘

جرمن اسکولوں میں بھی اب تنوع اور باہمی رواداری کے فروغ پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے تصویر: Patrick Pleul/ZB/picture alliance

کارل کوپ کا مزید کہنا تھا، ''بہت سے دیگر افراد برسوں سے اس خوف میں رہتے ہیں کہ کسی بھی وقت پولیس انہیں ملک بدر کرنے کے لیے آنے والی ہے۔ اس دباؤ میں رہنے سے ان کی تمام تر توانائی ختم ہو جاتی ہے۔ یہ کیفیت بہت سے مسائل کا سبب بنتی ہے۔‘‘ 'پرو ازیول‘ کے یورپی امور کے ڈائریکٹر نے تاہم یہ بھی کہا کہ وہ بہت سے ایسے 'ڈُلڈُنگ‘ کیسز سے بھی واقف ہیں، جن میں اس اسٹیٹس کے ساتھ پناہ کے متلاشی ان افراد کے پاس ملازمت یا تربیت کی سہولت موجود ہوتی ہے اور ان کے آجرین اپنے ان کارکنوں کو جرمنی میں رہنے کی اجازت دلوانے کی قانونی جنگ لڑ رہے ہوتے ہیں۔

جرمن حکومت کے سماجی انضمام کے امور کے کمشنر ریم الابالی رادووان نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں لکھا، ''نئی قانون سازی تقریباً ایک لاکھ پینتیس ہزار انسانوں کے بہتر زندگی تک پہنچنے کے سفر میں ایک پل ثابت ہو سکتی ہے۔‘‘ ان کے بقول، ''ہم جومنی کو ایک جدید امیگریشن ملک میں تبدیل کر رہے ہیں۔ یہ پہلا اہم قدم ہے۔ جرمنی میں قیام کے حق کے ساتھ پانچ سال سے زیادہ عرصے سے 'ڈُلڈُنگ‘اسٹیٹس کے ساتھ  زندگی گزارنے والوں کے لیے منصفانہ امکانات پیدا ہوں گے۔ ہم ان سب کے لیے سماجی انضمام کے کورسز تک رسائی ممکن بنا رہے ہیں۔‘‘

گرین پارٹی کے شریک سربراہ اُمید نوری پور نے اس اقدام کا دفاع کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس سے جرمنی میں ہنر مند کارکنوں کی شدید کمی دور کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ انہوں نے فُنکے میڈیا گروپ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا، ''ہم لوگوں کے لیے نئے امکانات کھول رہے ہیں۔ اس اسکیم کا ایک حصہ پوائنٹ سسٹم پر مبنی ایک جدید امیگریشن قانون ہے۔ یہ مسودہ قانون ہنرمند لیبر امیگریشن قانون کے ضوابط کو بھی مضبوط کرے گا۔‘‘

نئی جرمن پارلیمان: کم از کم 83 اراکین تارکین وطن کے گھرانوں سے

ادھر اپوزیشن کے سیاستدان اس حکومتی پالیسی پر تنقید کر رہے ہیں۔ کرسچین ڈیموکریٹک یونین سی ڈی یو سے تعلق رکھنے والے خاندانی امور سے متعلق پالیسی کے ترجمان آلیکسانڈر تھروم کہتے ہیں کہ حکومت کے یہ منصوبے جرمنی میں 'وسیع پیمانے پر غیر قانونی ترک وطن کے مواقع فراہم کریں گے‘۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح مخلوط حکومتی اتحاد جرمنی کے سیاسی پناہ کے قانون کو کمزور بنا رہا ہے۔

ک م / م م (بین نائٹ)

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں