1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

پاکستانی میڈیا انڈسٹری کو ’صنفی ایمرجنسی‘ کا سامنا، رپورٹ

عصمت جبیں اسلام آباد
8 مارچ 2024

عالمی یوم خواتین کے موقع پر پاکستان میں اگر دیگر شعبہ ہائے زندگی کی خواتین اپنے حقوق پر عمل درآمد کا مطالبہ کر رہی ہیں تو ملکی میڈیا انڈسٹری میں فعال خواتین بھی اپنی نمائندگی کی صورت حال کی طرف توجہ مبذول کرا رہی ہیں۔

Pakistan | Vorstellung des Berichts über Gender Emergency in Pakistan's Media Industry
تصویر: Freedom Network & WJAP

پاکستانی میڈیا میں خواتین کارکنوں کی موجودہ صورت حال اور توجہ کی اس کوشش کی نشاندہی ایک ایسی نئی تحقیقاتی رپورٹ نے کی، جس میں کئی حیران کن حقائق سامنے آئے ہیں۔ یہ رپورٹ پاکستان کی ویمن جرنلسٹ ایسوسی ایشن اور میڈیا کارکنوں کے حقوق کے لیے سرگرم فریڈم نیٹ ورک کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ یہ رپورٹ ''غیر مساوی نیوز رومز: پاکستانی میڈیا اداروں کا جینڈر آڈٹ‘‘ کے عنوان سے شائع کی گئی ہے۔

پاکستان کی پارلیمانی سیاست میں تاریخ رقم کرنے والی خواتین

یہ ہم گنہ گار عورتیں ہیں، نہ سر جھکائیں، نہ ہاتھ جوڑیں

یہ نئی رپورٹ 15 نیوز اداروں کے سروے کے نتائج پر مبنی ہے، جس میں ان اداروں میں خواتین کی نمائندگی، تنظیمی پالیسیاں، ہراساں کیے جانے کے خلاف اقدامات، حالات کار اور اجرتوں سے متعلق ڈیٹا جمع کیا گیا۔ اس 'جینڈر آڈٹ‘ میں خبروں کے شعبے کے جن 15 اداروں کا ڈیٹا شامل ہے، ان میں سے چھ ٹی وی چینلز ہیں، چار اخبارات، تین نیوزایجنسیاں اور دو نیوز ویب سائٹس۔
اس جائزے سے پتا چلا کہ ان نیوز اداروں کے کارکنوں میں خواتین صحافیوں کی اوسط شرح صرف 11 فیصد ہے اور اکثر اداروں میں قائدانہ عہدوں پر کوئی خاتون فائز نہیں۔ ان اداروں میں سے صرف دو میڈیا ہاؤسز میں ہراسانی کے واقعات کی چھان بین کے لیے انکوائری کمیٹیاں موجود ہیں حالانکہ ایک وفاقی قانون کے تحت پاکستان میں ایسی ایک انکوائری کمیٹی ہر ادارے میں لازماﹰ ہونا چاہیے۔ اس رپورٹ میں یہ انکشاف بھی کیا گیا کہ زیادہ تر میڈیا ادارے ایک اور وفاقی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے خواتین کارکنوں کو زچگی کی چھٹی بھی نہیں دیتے۔
اس رپورٹ سے یہ بھی واضح ہوا کہ ان 15 نیوز اداروں میں سے قریب تین چوتھائی ''جینڈر بلائنڈ‘‘ ہیں۔ اس اصطلاح سے مراد یہ ہے کہ ان کی ادارہ جاتی پالیسیاں اور طرز عمل صنفی نوعیت کے ان مخصوص مسائل پر کوئی توجہ نہیں دیتیں، جو مردوں، خواتین اور 'صنفی اقلیتوں‘ کو مختلف طریقوں سے متاثر کر سکتے ہیں۔
اس صورت حال کی وضاحت کرتے ہوئے ویمن جرنلسٹ ایسوسی ایشن آف پاکستان کی بانی اور ایک نیوز ٹی وی چینل کی اینکر فوزیہ کلثوم رانا، جنہوں نے دیگرصحافیوں کے ساتھ مل کر اور خود بھی میڈیا ہاؤسز میں جا کر ڈیٹا جمع کیا، ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ”یہ جینڈر آڈٹ زمینی حقائق پر مبنی ہے، جس کے نتائج پر میڈیا مالکان اور منتظمین کو فکر مند ہونا چاہیے۔‘‘ ان کے الفاظ میں، ''میڈیا ہاؤسز میں مردوں کی بالا دستی والی پالیسیاں اور طرز عمل خواتین صحافیوں اور دیگر میڈیا ورکرز کے لیے اضافی صنفی چیلنجز کی وجہ بنتے ہیں۔ ان سبھی میڈیا اداروں کو اس جینڈر آڈٹ کے نتائج کی روشنی میں اپنے داخلی نظاموں کا لازماﹰ جائزہ لینا چاہیے۔‘‘

اس رپورٹ کے مطابق پاکستانی میڈیا میں خواتین کی نمائندگی نہایت کم ہےتصویر: Freedom Network & WJAP

آج ٹی وی سے منسلک سینئر رپورٹر عمرانہ کومل نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ وہ خود کئی اداروں میں کام کر چکی ہیں اور سچ یہ ہے کہ زمینی حقائق اس آڈٹ کے نتائج سے بھی زیادہ تلخ ہیں۔ ان کے مطابق کہیں ٹائلٹ بہت گندے ہوتے ہیں، کہیں مہینوں تک تنخواہیں نہیں ملتیں، اور کئی صحافی خواتین کو تو اس حد تک ہراساں کیا اور دھمکایا جاتا ہے کہ ان کے گھروں کے باہر اشارے کے طور پر تیزاب کی بوتلیں تک رکھ دی جاتی ہیں۔ عمرانہ کومل نے کہا کہ ایسی وجوہات کی بنا پر اکثر خواتین صحافی اپنی ملازمت تک چھوڑ دیتی ہیں۔
اس خاتون ٹی وی رپورٹر نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''میڈیا اداروں، نیوز آرگنائزیشنز، پریس کلبوں اور یونینوں میں خواتین صحافیوں کی تعداد نصف نہیں تو کم از کم ایک تہائی کرنے کی کوشش کی جائے تو عوام کا میڈیا پر اعتماد بھی بحال ہو گا اور یوں ملکی میڈیا ادارے پیشہ وارانہ اور مالیاتی دونوں سطحوں پر زیادہ کامیاب بھی ہو سکیں گے۔‘‘

وقاص احمد نعیم ایک میڈیا تجزیہ کار ہیں اور انٹرنیشنل میڈیا سپورٹ نامی بین الاقوامی تنظیم کے لیے کام کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خواتین صحافیوں کی میڈیا انڈسٹری میں بہتر نمائندگی کے مطالبے کو عموماﹰ تسلیم تو کیا جاتا ہے مگر اس پر عمل درآمد کے لیے کوئی مناسب حکمت عملی وضع نہیں کی جاتی۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ میڈیا رائٹس کے لیے فعال تنظیموں، سول سوسائٹی اور خواتین صحافیوں کو پاکستانی میڈیا میں خواتین کی بہتر نمائندگی کو ذرائع ابلاغ کے بنیادی کردار اور مقصد سے مربوط کرنا ہو گا۔ اس کی وضاحت انہوں نے یوں کی، ''میڈیا عوامی مفادات کے تحفظ کا ضامن ہے۔ ان مفادات  کا تحفظ نیوز رومز اور رپورٹنگ ٹیموں میں زیادہ سے زیادہ خواتین کی موجودگی سے ہی ممکن ہے۔ چونکہ نیوز رومز میں خواتین کی تعداد دس فیصد بھی نہیں ہوتی، اس لیے خبروں کے موضوعات اور آراء خواتین سے متعلق تو اکثر ہوتے ہی نہیں۔ جب خبروں میں خواتین سے متعلق معلومات اور عورتوں کی ضروریات ترجیح نہیں ہوتیں، تو عوام کو تاثر یہ ملتا ہے کہ میڈیا کو ملک کی نصف سے بھی زائد آبادی میں کوئی دلچسپی نہیں۔ یوں عام شہریوں کا میڈیا اور صحافت پر اعتبار ختم ہوتا جاتا ہے۔‘‘

بدترین چیلنجز سے نئی راہیں نکالنے والی باحوصلہ خاتون

07:05

This browser does not support the video element.

پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد میں نیشنل پریس کلب کی نائب صدر مائرہ عمران نے ڈی ڈبلیو کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا، ''میڈیا اداروں میں صنفی تنوع کی خراب صورتحال صحافتی معیار کو بھی متاثر کرتی ہے اور خواتین کی ان کے لیے اہم معلومات تک رسائی بھی محدود کر دیتی ہے۔ نیوز رومز میں خواتین کم ہوں تو میڈیا مواد میں بھی خواتین کا زاویہ نگاہ نظر انداز ہو جاتا ہے۔‘‘ مائرہ عمران نے زور دے کر کہا کہ پاکستانی میڈیا اداروں کو اپنے ہاں صنفی مساوات رائج کرنا چاہیے، اپنے عملے میں قائدانہ عہدوں پر بھی اور خبروں میں صنفی حساسیت کے لحاظ سے بھی۔

فریڈم نیٹ ورک کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر اقبال خٹک نے ڈی ڈبلیو کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ سول سوسائٹی کو بھی صنفی حساسیت سے متعلق اصلاحات کے نفاذ کے لیے میڈیا انڈسٹری کی مدد کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی میڈیا انڈسٹری میں 'صنفی ایمرجنسی‘ کے خاتمے کے لیے میڈیا اداروں کو اپنا تنظیمی کلچر بدلنا چاہیے اور اس تبدیلی کی لازمی بنیادوں میں سے ایک صنفی مساوات کا عملی نفاذ بھی ہے۔

اقبال خٹک کے مطابق، ''میڈیا ہاؤسز کو ملازمتوں، ترقیوں اور جائے روزگار پر طرز عمل سمیت ہر حوالے سے صنفی مساوات کی پالیسیاں اپنانا چاہییں۔ ہم نے جو جینڈر آڈٹ مکمل کیا ہے، اس کے نتائج کی روشنی میں میڈیا اداروں کے پالیسی سازوں کو جائے روزگار پر جنسی طور پر ہراساں کیے جانے اور خواتین ورکرز کو درپیش خطرات کا فوری تدارک بھی کرنا چاہیے۔‘‘

 

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں