1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

پاکستان میں مجوزہ فوجی بجٹ تنقید کی زد میں

عبدالستار، اسلام آباد
7 جون 2023

حکومت کی جانب سے ملکی دفاع کے لیے تجویز کردہ اٹھارہ سو ارب روپے کے بجٹ پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جارہا ہے۔ پاکستانی حکومت کو آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کرنے میں مالی مشکلات کا سامنا ہے۔

Pakistan | Militärparade in Islamabad
تصویر: Ahmad Kamal/Xinhua/picture alliance

 حکومت نے یکم جولائی سے شروع ہونے والے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں فوج  کے لئے اٹھارہ سو ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی ہے لیکن اس تجویز کو تنقید کا سامنا ہے۔ کئی ناقدین اسےغیرپیداواری اخراجات کی مد میں رکھتے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ اس طرح کے اخراجات میں موجودہ معاشی صورتحال کے پیش نظر کمی لائئی جانی چاہییے۔

حساب مانگنے والوں سے کون حساب لے سکتا ہے؟

پاکستانی وزیر خزانہ اسحاق ڈار تصویر: Aamir Qureshi/AFP/Getty Images

 واضح رہے کہ پاکستان کی معیشت اس وقت بدترین حالات سے گزر رہی ہے۔ ملک پر ایک سو پندرہ ارب ڈالرز سے زیادہ کا قرضہ ہے۔ ٹیکسوں کی  وصولی کم ہے۔ ملک میں طاقتور عناصر پر ٹیکس عائد نہیں کیا گیا، جس میں ملک کے جاگیردار اور کچھ طاقتور اداروں کے صنعتی اور کمرشل منافع بخش شعبہ جات بھی شامل ہیں، جنہیں ٹیکس کے معاملے میں رعایت دی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی خیال کیا جاتا ہے کہ ملکی اشرافیہ کو سترہ بلین ڈالرز سے زیادہ کی سبسڈی دی جاتی ہے اور ٹیکسوں کا سارا بوجھ غریب عوام پر ڈال دیا جاتا ہے۔

فوجی بجٹ کم کیا جائے

 ماہرین کا خیال ہے کہ حکومت کو دفاعی بجٹ  میں کمی کرنی چاہیے اور اس بجٹ کو انسانی ترقی پر خرچ کرنا چاہیے۔ عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ ملک کے بجٹ میں فوج کا جتنا بھی حصہ رکھا جاتا ہے عموماﹰ اس کے اخراجات اس سے بہت زیادہ بڑھ جاتے ہیں۔ لہٰذا نہ صرف فوجی بجٹ کو کم کیا جانا چاہییے بلکہ ان اخراجات کو بھی بہت حد تک کم کیا جانا چاہییے۔

دفاعی بجٹ بڑھانے کا عندیہ: کیا سماجی ترقی متاثر ہوگی؟

 اسلام آباد میں مقیم ایک تجزیہ نگار ایوب ملک کا کہنا ہے کہ پاکستان میں نہ صرف معاشی صورتحال بدتر ہے بلکہ شہریوں کی بھی حالت زار قابل افسوس ہے۔ ایسی صورت میں فوجی بجٹ میں بہت حد تک کمی ہونی چاہیے۔

ایوب ملک نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''عوام کی حالت خستہ حال ہے۔ ڈھائی کروڑ سے زیادہ بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ 67 فیصد لوگوں کے پاس پکی چھت نہیں۔ چھ کروڑ سے زیادہ لوگ غربت میں رہے رہے ہیں۔  ایسے میں انسانوں پر پیسہ لگانا چاہیے اور فوجی بجٹ کو کم کرنا چاہیے۔‘‘

ایوب ملک کا دعوی ہے کہ یہ تصور غلط ہے کہ فوج صرف بجٹ میں مختص کردہ رقم پر ہی انحصار کرتی ہے۔ انہوں نے کہا، ''جنرل مشرف کے دور سے فوجیوں کی پینشن سویلین اکاونٹس سے لی جارہی ہے۔ جب فوج کو ملک کے دوسرے حصوں میں بھیجا جاتا ہے، تو اس کے بھی پیسے حکومت کو دینے پڑتے ہیں۔ رینجرز اور ایف سی کو جب کسی صوبے میں بھیجا جاتا ہے، تو اس سے بھی ان صوبوں کے مالی مسائل بڑھتے ہیں۔ انتخابی ڈیوٹی اور دوسری مد میں بھی فوج پیسے لیتی ہے۔‘‘

دفاعی بجٹ: ’قوم مضبوط ہو گی تو دفاع بھی مضبوط ہو گا‘

پاکستان کی مسلح افواج دینا کی پانچویں بڑ فوج ہےتصویر: Muhammed Semih Ugurlu/AA/picture-alliance

فوجی بجٹ میں کمی ممکن نہیں

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس سے وابستہ ڈاکٹر شاہد محمود کا کہنا ہے کہ پاکستان میں پہلے ہی بہت پیسہ غیر پیداواری اخراجات پر خرچ ہوتا ہے۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''فوجی بجٹ کو کوئی سیاست دان کم نہیں کر سکتا۔  فوج جتنا چاہتی ہے وہ اپنا بجٹ لے لیتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم بجٹ میں انسانی ترقی پر پیسہ لگائیں۔ مثال کے طور پر اسی فیصد بیماریاں ہمارے ملک میں صرف پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی سے ہیں۔ اگر اس پر پیسہ لگا دیا جائے آئے تونہ صرف انسانوں کی جان بچائی جاسکتی ہیں بلکہ اپنے اسپتالوں پر بوجھ بھی کم کیا جا سکتا ہے۔‘‘

 شاہد محمود کے مطابق بدقسمتی سے جب ترقیاتی سکیموں پر پیسہ خرچ کیا جاتا ہے، تو بہت زیادہ پیسہ انفرسٹرکچر پر لگا دیا جاتا ہے۔ '' تعلیم، صحت، پینے کا صاف پانی، ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ اور ٹیکنیکل ٹریننگ پر پیسہ لگنا چاہیے۔‘‘

پاکستانی دفاعی بجٹ میں گیارہ فیصد اضافہ

 معاشی امور کے ماہر ڈاکٹر قیس اسلم کا کہنا ہے کہ نہ صرف ہمارے پاس دفاعی بجٹ کا دفاع کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے بلکہ اور بھی ایسے اخراجات ہیں، جس کا کسی بھی طور پر دفاع نہیں کیا جا سکتا۔ ڈاکٹر قیس اسلم نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''جنرل مشرف نے اپنے دور میں کہا تھا کہ پاکستان نیوکلیئر ٹیکنالوجی اس لئے حاصل کر رہا ہے تا کہ وہ مستقبل میں دفاعی اخراجات کم کرسکے لیکن دیکھنے میں آرہا ہے دفاعی اخراجات اس کے بعد بھی  مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم بھارت سے تعلقات بہتر کریں اور دفاعی اخراجات کو کم کرکے ان کو انسانی ترقی پر لگائیں۔‘‘

دفاعی بجٹ مناسب ہے

تاہم کچھ حلقے کہ اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان کو بہت سارے اندرونی اور بیرونی خطرات لاحق ہیں اور طالبان کی شدت پسندانہ کارروائیاں ایک دفعہ پھربڑھ رہی ہیں، جس کی وجہ سے ملک کا دفاع بہت اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ ان ناقدین کا کہنا ہے کہ  دفاعی بجٹ کو ہمیشہ خطرات کو پیش نظر رکھتے ہوئے تشکیل دینا ہوتا ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر تاج حیدر کا کہنا ہے کہ دفاعی بجٹ کم کرنا مسئلے کا حل نہیں۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، '' اس وقت پاکستان کے لیے خطرات بڑھ رہے ہیں، روزانہ ہمارے سپاہیوں کو شہید کیا جارہا ہے۔  ان عوامل کے پیش نظر بجٹ کو رکھا گیا ہے، جو مناسب ہے۔‘‘

تاج حیدر کے مطابق ضرورت اس امر کی ہے کہ ٹیکس وصول کرنے کا اختیار نچلی سطح تک منتقل کیا جائے اور وسیع وصولیوں میں مناسب اضافہ کیا جائے۔

 

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں