1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
تنازعاتایشیا

چین کی دھمکیوں کے درمیان تائیوان کی صدر کا دورہ امریکہ

30 مارچ 2023

تائیوان کی صدر سائی انگ وین وسطی امریکی ممالک کے دورے کے دوران ہی نیویارک پہنچ گئی ہیں۔ ادھر چین نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ اگر انہوں نے اعلیٰ امریکی حکام سے ملاقات کی، تو وہ جوابی اقدام کرے گا۔

 Präsidentin Tsai Ing-wen besucht USA
تصویر: Ann Wang/REUTERS

تائیوان کی صدر سائی انگ وین وسطی امریکہ کے دورے پر جا رہی تھیں کہ اچانک 29 مارچ بدھ کے روز امریکی شہر نیویارک پہنچ گئیں۔ ان کا دورہ امریکہ ایسے وقت ہو رہا ہے جب چین نے دھمکی دی ہے کہ اگر انہوں نے امریکی ایوانِ نمائندگان کے اسپیکر کیون میکارتھی سے ملاقات کی، تو اس کے خلاف جوابی کارروائی کی جائے گی۔

ہونڈوراس بھی چین کے ساتھ سفارتی تعلقات کا خواہاں

سائی انگ وسطی امریکہ کے دورے کے دوران گوئٹے مالا اور بیلیز کے رہنماؤں سے ملاقات کریں گی، جو تائیوان کو سفارتی طور پر تسلیم کرنے والے چند ممالک میں سے ایک ہیں۔

بیجنگ کی عسکری منصوبہ بندی ، خطے اور بڑی طاقتوں کی تشویش

اطلاعات کے مطابق وہ سنیچر تک نیویارک میں قیام کریں گی اور وسطی امریکہ سے واپسی پر لاس اینجلس بھی جائیں گی۔ گرچہ سرکاری طور پر اس بات کی تصدیق نہیں کی گئی ہے تاہم کیلیفورنیا میں کیون میکارتھی سے ان کی ملاقات ہونے کی توقع ہے۔

تائیوان پر امریکی اور چینی کشیدگی، صورتحال کتنی سنجیدہ؟

اسی دوران گھریلو سطح پر صدر سائی انگ کے سب سے نمایاں مخالف سیاسی رہنما تائیوان کے سابق صدر ماینگ جیو نے بدھ کے روز سے چین کا دورہ شروع کیا ہے۔ تائیوان کے کسی بھی سابق صدر کا چین کا یہ پہلا دورہ ہے۔

جنوبی بحیرہ چین میں چینی جیٹ طیارہ امریکی طیارے سے ٹکراتے ٹکراتے بچا

چین کی جوابی کارروائی کی دھمکی

بیجنگ نے سائی اور میک کارتھی کے درمیان کسی بھی طرح کی ملاقات کے خلاف متنبہ کیا ہے اور اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ اگر یہ ملاقات آگے بڑھتی ہے تو ''اس کے خلاف پر عزم اقدامات'' کیے جائیں گے۔

واشنگٹن میں چینی سفارتخانے کے ناظم الامور سو زوئیوان نے کہا کہ انہوں نے اس بارے میں متعدد بار امریکی حکام سے براہ راست بات کی اور انہیں متنبہ کیا ہے کہ سائی کے دورہ امریکہ سے چین کے بنیادی مفادات کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔

اطلاعات کے مطابق وہ سنیچر تک وہاں قیام کریں گی اور وسطی امریکہ سے واپسی پر لاس اینجلس بھی جائیں گیتصویر: Ann Wang/REUTERS

انہوں نے صحافیوں سے بات چت کے دوران سابق ایوانِ نمائندگان کی اسپیکر نینسی پیلوسی کے دورہ تائیوان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ''ہم امریکہ پر زور دیتے ہیں کہ وہ تائیوان کے سوال پر آگ سے کھیلنے کا کھیل نہ دہرائے۔''

 حال ہی میں جب ایک چیک وفد اور ایک جرمن وزیر نے تائیوان کا دورہ کیا تھا تو بیجنگ نے ان کی بھی سخت سرزنش کی تھی۔

امریکہ نے چین سے جارحانہ رویہ اختیار نہ کرنے کی اپیل کی

نینسی پیلوسی کے دورے پر بیجنگ نے سخت رد عمل کا مظاہرہ کیا تھا اور چینی فوج نے جزیرے کے ارد گرد غیر معمولی پیمانے پر عسکری مشقیں شروع کر دی تھیں۔

تاہم اس بار امریکہ نے کہا کہ چین کو آبنائے تائیوان کے قریب جارحانہ انداز میں کارروائی کرنے کے لیے سائی کے دورہ کو بہانے کے طور پر استعمال نہیں کرنا چاہیے۔

چین جزیرہ تائیوان کو اپنی ہی سرزمین کا ایک حصہ مانتا ہے اور اس نے اسے مکمل طور پر چین میں ضم کرنے کا عہد کیا ہے۔ اس نے اس کے لیے ضرورت پڑنے پر طاقت کے استعمال سے گریز نہ کرنے کی بات کہی ہے۔  بیجنگ تائی پے اور دنیا کی دیگر غیر ملکی حکومتوں کے درمیان سرکاری تعلقات کی بھی مخالفت کرتا ہے۔

تائی پے اور بیجنگ کے درمیان سفارتی جنگ

چین نے لاطینی امریکہ میں اپنی سرمایہ کاری میں زبردست اضافہ کیا ہے، جو فی الوقت تائی پے اور بیجنگ کے درمیان اہم سفارتی جنگ کا میدان بھی ہے۔

ہونڈوراس کے وزیر خارجہ اینریک رینا نے حال ہی میں بیجنگ کا دورہ کر کے اپنے چینی ہم منصب کن گینگ سے ملاقات کے دوران بیجنگ سے تعلقات کی بحالی کا باضابطہ آغاز کیا۔ اس پر اتوار کے روز ہی تائیوان نے چین پر الزام لگایا کہ وہ اپنے اتحادیوں کو لبھانے کے لیے

 ''ڈرانے دھمکانے اور زبردستی کرنے'' جیسے حربے استعمال کر رہا ہے۔

ادھر ہنڈوراس کی وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ صدر زیومارا کاسترو ''جلد ہی'' چین کا سفر کریں گے، تاہم اس سفر کی تاریخ نہیں بتائی گئی ہے۔

حالیہ برسوں میں لاطینی امریکہ میں ایک رجحان یہ دیکھا گیا ہے کہ نکاراگوا، ایل سلواڈور، پانامہ، ڈومینیکن ریپبلک اور کوسٹا ریکا جیسے کئی ممالک تائیوان کو چھوڑ کر بیجنگ کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کر رہے ہیں۔

گوئٹے مالا اور بیلیز کے ساتھ ہی ابھی بھی لاطینی امریکہ اور کیریبیئن خطے کے چند مٹھی بھر ممالک بشمول پیراگوئے اور ہیٹی کے ساتھ تائیوان کے سفارتی تعلقات قائم ہیں۔

ص ز/ ج ا (اے ایف پی، روئٹرز، ای ایف ای)

چین کی تائیوان کے قریب فوجی مشقیں، تائیوانی ماہی گیر خوفزدہ

03:10

This browser does not support the video element.

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں